بی جے پی حکومت نے تعلیمی نصاب کو بدل دینے اور تاریخ کو مسخ کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کے تحت جو نصاب ترتیب دیا جارہا ہے اس میں سے ایک طرف آر ایس ایس کے سیاہ کرتوت اور اس پر گاندھی جی کے قتل کے بعد پابندی عائد کرنے کی تاریخ کو Delete کیا جارہا ہے تو 2002ء کے گجرات فسادات کے واقعات کو بھی نصاب سے نکالا جارہاہے۔ ٹیپو سلطان کو تو ولن بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف مغلیہ دورِ حکومت کو تاریخ کی کتابوں سے مکمل طور پر خارج کیا جارہاہے۔ واجپائی دور حکومت میں بھی مرلی منوہر جوشی نے ا یسی حماقتیں کی تھیں اور اب مودی دورِ حکومت میں بھی ایسی حماقتیں کی جارہی ہیں۔ روش کمارنے کیا خوب کہا ہے کہ گوگل کے دور میں مغلوں کے کارناموں کوSyllabus سے نکال دینے سے تاریخ نہیں بدل جاتی۔ مغلیہ تاریخ ہی نہ ہو تو پھر تاج محل کہاں جائے گا۔ ویسے بھی بعض تنگ نظر
socalled Historians تاج محل کو ہندو راجا کا محل ثابت کرنے کے لئے 70برس سے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔
موجودہ حالات کے پیش نظر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو سچی تاریخ سے واقف کروائیں۔ ان کے اسکولس میں وہی پڑھایا جائے گا جو حکومت کا منظورہ ہے۔
تعلیم
بی جے پی حکومت نے تعلیمی نصاب کو بدل دینے اور تاریخ کو مسخ کردینے کا فیصلہ کیا ہے
Journalist
Gawah News Desk
Gawah News Desk is GAWAH’s collective newsroom voice—reporting verified facts, adding context and asking the questions that matter. We strive for accuracy and publish in good faith based on available sources; inadvertent errors or omissions…


